کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

 

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

Poet: Parween Shakir

Related Posts

مولانا عبد الرحمن جامی کی نعت

‎وہ نعت کہ جس کے شاعر پر نبی کریم ص نے مدینہ منورہ میں داخلے پر پابندی لگوادی! ‎براہ کرم یہ ضرور پڑھئے اور سوچئے کہ یہ…

دیکھ کے چمن کی خستہ حالی

دیکھ کے چمن کی خستہ حالی بات لبوں پہ آ جاتی ھے نہ بولو تو اندر اندر بات بندے کو کھا جاتی ھے مرد اگر نظریں نہ…

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں   ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ…

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں  احمد فراز  سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *